باڑ[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بندوقوں یا توپوں کا ایک ساتھ فیر۔ "توپوں کی باڑ نے سینکڑوں کو خاک و خوں میں ملا دیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١١٤:٣ ) ٢ - بوجھار، یلغار، لگاتار پڑنے یا ہونے کی صورت حال۔ "اولوں کی باڑ نے محبت کی دیوی کو زخمی کر دیا۔"      ( ١٩٤٤ء، گوہر مقصود، ٢٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ورش' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'باڑ' مستعمل ہے۔ ١٧٩٤ء میں "جنگ نامہ دو جوڑا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بندوقوں یا توپوں کا ایک ساتھ فیر۔ "توپوں کی باڑ نے سینکڑوں کو خاک و خوں میں ملا دیا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١١٤:٣ ) ٢ - بوجھار، یلغار، لگاتار پڑنے یا ہونے کی صورت حال۔ "اولوں کی باڑ نے محبت کی دیوی کو زخمی کر دیا۔"      ( ١٩٤٤ء، گوہر مقصود، ٢٢ )

اصل لفظ: ورش
جنس: مؤنث